مارچ[2]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کوچ، روانگی؛ (فوج کی تربیت یافتہ) چال، رفتار۔ "وہ اسے مارچ اور پی ٹی سکھاتا رہا۔"      ( ١٩٥٧، انگلیاں فگار اپنی، ٢٤٢ ) ٢ - [ موسیقی ]  فوج کے روانہ ہوتے وقت کا گانا، ترانہ۔ "اکثر قومی ترانے، مارچ کی دھنوں میں مارچ کی مخصوص تالوں میں موزوں کئے جاتے ہیں جیسے جمہوریہ ترکی کا "استقدال مارچ" یا عراق کا ترانۂ شاہی سلامی۔"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ١٧٣ )

اشتقاق

اصلاً انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ عربی رسم الخط کے ساتھ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٩١ء کو "حرم سرا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کوچ، روانگی؛ (فوج کی تربیت یافتہ) چال، رفتار۔ "وہ اسے مارچ اور پی ٹی سکھاتا رہا۔"      ( ١٩٥٧، انگلیاں فگار اپنی، ٢٤٢ ) ٢ - [ موسیقی ]  فوج کے روانہ ہوتے وقت کا گانا، ترانہ۔ "اکثر قومی ترانے، مارچ کی دھنوں میں مارچ کی مخصوص تالوں میں موزوں کئے جاتے ہیں جیسے جمہوریہ ترکی کا "استقدال مارچ" یا عراق کا ترانۂ شاہی سلامی۔"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ١٧٣ )

اصل لفظ: March
جنس: مؤنث